ڈاکٹر اشو تھامہ
جامی چانڈیو کی ایک پوسٹ جس میں وہ بلوچستان میں حالیہ پسند کی شادی کے الزام میں ایک جوڑے کے قتل کے واقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہیں، بظاہر تو انسانی ہمدردی، قبائلی جبر اور سماجی پسماندگی کے خلاف ایک ترقی پسند ردعمل ہے۔ مگر اس پوسٹ کی ساخت اور مفہوم میں کئی ایسے پہلو چھپے ہیں جو اسے محض ایک موقع پرستانہ اور ابہام زدہ بیان بناتے ہیں، نہ کہ ایک اصولی ترقی پسند موقف۔
قبائلی جبر کی مذمت یا بلوچ سیاسی مزاحمت کی نفی؟
پوسٹ میں بلوچستان کے قبائلی نظام کو وحشی، جاہلانہ اور عورت دشمن قرار دے کر پورے واقعے کو مقامی ثقافت کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس طرزِ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ: گویا قبائلیت ہی بلوچستان کا اصل مسئلہ ہے، اور بلوچ قومی تحریک یا ریاستی جبر کے ذکر سے گریز کرکے زمینی تضاد کو depoliticize کیا گیا ہے۔
یہ مؤقف ریاستی بیانیے کے قریب پڑتا ہے جو بلوچ مزاحمت کو قبائلی پس ماندگی اور داخلی ٹوٹ پھوٹ سے جوڑ کر اس کی اخلاقی ساکھ ختم کرنا چاہتا ہے۔
اجتماعی مظلومیت کو انفرادی جرائم کے پردے میں چھپانا
جامی چانڈیو نے جس زبان میں یہ قبائلی جبر بیان کیا ہے، وہ بلوچ قوم کے اجتماعی حقوق، جبری گمشدگیوں، فوجی آپریشنز، اور سیاسی محرومی جیسے تاریخی تناظرات کو مکمل طور پر غائب کر دیتی ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ:
“بلوچ اپنی پسماندگی کے خود ذمہ دار ہیں، اور ان کی تحریک ایک وحشی معاشرت کی نمائندہ ہے۔”
یہی ریاستی پروپیگنڈے کا وہ زاویہ ہے جس میں مظلوم کی مزاحمت کو اس کی ‘سماجی پسماندگی’ سے غیر معتبر کیا جاتا ہے۔
صنفی و طبقاتی سوال کی آڑ میں قومی سوال کو غیر اہم بنانا
جامی کی پوسٹ کا ایک ظاہری تضاد یہ ہے کہ وہ صنفی ظلم کو تو واضح کرتا ہے، مگر اسے بلوچ قومی سوال سے کاٹ دیتا ہے — یا یہ کہہ لیں کہ وہ صنفی سوال کو “ڈسپلنری چھڑی” کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ بلوچ مزاحمت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکے۔
یہ رویہ ترقی پسند حلقوں میں ایک عمومی intellectual hypocrisy کی مثال ہے، جہاں:
اگر کوئی قوم اپنی خودمختاری مانگے مگر اس کے سماج میں صنفی برابری نہ ہو، تو ترقی پسند حضرات اسے “رجعت پسند” کہہ کر نظر انداز کرتے ہیں، مگر پنجاب یا مرکز کی اشرافیہ کو کبھی اسی بنیاد پر رد نہیں کرتے۔
ریاستی سرداری گٹھ جوڑ کی مذمت — مگر ادھوری
پوسٹ میں سرداروں اور ریاست کے گٹھ جوڑ کی مذمت کی گئی ہے، لیکن یہ بے ضرر، غیر سیاسی، اور روایتی مظلومیت کی زبان میں لپٹی ہوئی ہے۔ جامی یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ:
سرداری نظام کو تقویت دینے والا خود ریاستی ڈھانچہ ہے؛
اور یہ نظام بلوچ عوام کی سیاسی آواز کو دبانے کے لیے پیدا کیا گیا۔
یہ سرداری نظام بلوچ عوام کی مزاحمت کے راستے میں رکاوٹ ضرور ہے، لیکن اسے اصل مزاحمت (یعنی قومی خود ارادیت) سے الگ کر کے دیکھنا علمی خیانت ہے۔
*جامی کی ترقی پسندی پر سوال
جامی چانڈیو کی یہ پوسٹ نہ صرف سیاسی طور پر مبہم اور فکری طور پر غیر ایماندار ہے بلکہ یہ ترقی پسندی کے لبادے میں ریاستی بیانیے کے قریب ترین فکری رجحان کی نمائندگی کرتی ہے۔
ایسی پوسٹ میں بلوچ عوام کی اجتماعی مزاحمت کو قبائلی پسماندگی سے متصادم کر کے پیش کیا جاتا ہے؛اور صنفی مظالم کی آڑ میں ریاستی مظالم کو پسِ منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔
متبادل ترقی پسند بیانیہ کی ضرورت
حقیقی ترقی پسند مؤقف وہی ہو سکتا ہے جو کہے:”بلوچ قبائلی جبر ایک حقیقت ہے، مگر اس کو بلوچ قومی حقوق کی تحریک کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنا ظلم در ظلم ہے۔ اور جب تک قومی جدوجہد صنفی اور طبقاتی سوالات سے جُڑ کر آگے نہیں بڑھتی، تب تک وہ نجات کی مکمل سیاست نہیں بن سکتی۔”