کراچی(انڈس ٹربیون) کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کی حراست میں ایک بچے کی ہلاکت نے تشویش اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والا بچہ عرفان بلوچ کراچی سیر و تفریح کے لیے آیا تھا، جو مبینہ طور پر پولیس تشدد کے باعث دم توڑ گیا.
لواحقین کے مطابق، عرفان بلوچ بدھ کی صبح اپنے تین دوستوں کے ہمراہ ناشتہ کرنے کے لیے عائشہ منزل گیا تھا، جہاں سے ایس آئی یو اہلکاروں نے چاروں کو حراست میں لے لیا. اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حراست کے بعد تمام دوستوں کے موبائل فون بند کر دیے گئے، اور وہ مختلف مقامات پر انہیں تلاش کرتے رہے.
جمعرات کی شام عرفان بلوچ ے چچا کو فون کرکے ایس آئی یو کے دفتر بلایا گیا، جہاں انہیں بتایا گیا کہ عرفان انتقال کر گیا ہے۔ متوفی کی لاش جناح اسپتال منتقل کردی گئی، جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا.
ذرائع کے مطابق، ابتدائی رپورٹ میں عرفان بلوچ ے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ بچے کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی. ایس ایس پی ایس آئی یو امجد شیخ نے کہا کہ “ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں تشدد کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم مجسٹریٹ کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کرایا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے میں ملوث تین اے ایس آئی سمیت سات اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہیں. امجد شیخ نے واضح کیا کہ “اگر اہلخانہ چاہیں تو اپنی میڈیکل ٹیم کو پوسٹ مارٹم میں شامل کرسکتے ہیں یا ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے تسلی حاصل کرسکتے ہیں۔”
دوسری جانب، متوفی کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ عرفان کو ایس آئی یو پولیس نے تشدد کر کے ہلاک کیا. انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے.
عرفان بلوچ کی پولیس حراست میں ہلاکت نے ایک بار پھر حراستی تشدد کے واقعات پر عوامی تشویش کو جنم دیا ہے، جبکہ شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے.