اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان میں یورپی یونین کے نئے سفیر رائمونڈس کاروبلس نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے انسانی حقوق کے شعبے میں مؤثر پیشرفت نہ کی تو جی ایس پی پلس مراعات متاثر ہو سکتی ہیں.
جیو نیوز سے گفتگو میں یورپی سفیر نے کہا کہ پاکستان کے کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق خدشات جائز ہیں اور یہ درست مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے تجویز دی کہ ترکیہ کی ثالثی کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت جاری رہنی چاہیے.
رائمونڈس کاروبلس کے مطابق جبری گمشدگیاں جی ایس پی پلس مانیٹرنگ میں سرفہرست مسئلہ ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے بڑھتے ہوئے کیسز تشویشناک ہیں، جھوٹے مقدمات اور بلاسفیمی کا غلط استعمال ختم کرنا ضروری ہے.
یورپی سفیر نے کہا کہ ملک میں آزادی اظہار اور میڈیا اسپیس میں کمی کا مشاہدہ ہو رہا ہے، اور اگر انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو یورپی تجارتی مراعات خطرے میں پڑ سکتی ہیں.
انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین پاکستانی پارلیمان اور حکومت کو تسلیم کرتی ہے، تاہم اصلاحات ناگزیر ہیں۔ آئینی ترمیم کو انہوں نے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا جبکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے متعلق فیصلہ عدالتوں کا اختیار ہے۔ ان کے مطابق سیاسی تنوع اور عدلیہ کی آزادی بنیادی جمہوری اصول ہیں.
رائمونڈس کاروبلس نے بتایا کہ یورپی یونین نے 2022 کے سیلاب کے بعد تقریباً ایک ارب یورو امداد فراہم کی اور کہا کہ مستقبل میں بھی کلائمیٹ چینج پر تعاون یورپی یونین کی اولین ترجیح رہے گا.