ڈھاکہ(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش میں حالیہ عام انتخابات کے غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج کے بعد بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کو واضح برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان کے حامی انھیں بنگلہ دیش کا ’ممکنہ وزیرِاعظم‘ قرار دے رہے ہیں۔ طارق رحمان تقریباً 17 برس لندن میں سیاسی پناہ کے طور پر قیام کے بعد گزشتہ دسمبر میں ڈھاکہ واپس آئے تھے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
عوامی لیگ کی عدم شرکت، جماعت اسلامی بطور حریف
بی این پی کی دیرینہ حریف جماعت عوامی لیگ نے ان انتخابات میں حصہ نہیں لیا، کیونکہ موجودہ انتظامیہ کی جانب سے اس پر پابندی عائد تھی۔ اس صورتحال میں جماعت اسلامی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے اور کئی حلقوں میں اس نے مضبوط مقابلہ کیا۔
جلاوطنی سے واپسی تک کا سفر
طارق رحمان کو سنہ 2007 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ تقریباً 18 ماہ جیل میں رہے اور ستمبر 2008 میں رہائی کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ لندن منتقل ہو گئے۔
سنہ 2018 میں ان کی والدہ اور سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کو کرپشن کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد وہ لندن سے ہی پارٹی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ بعد ازاں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد طارق رحمان کو وطن واپسی کا موقع ملا اور وہ 25 دسمبر کو ڈھاکہ پہنچے۔
30 دسمبر کو خالدہ ضیا کے انتقال کے دس دن بعد، نو جنوری کو بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں انھیں باضابطہ طور پر پارٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔
انتخابی مہم اور خاندانی پس منظر
بطور چیئرمین، طارق رحمان نے 22 جنوری کو سلہٹ میں انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی مختلف انتخابی تقاریب میں شریک رہیں۔
طارق رحمان بنگلہ دیش کے پہلے فوجی حکمران اور سابق صدر ضیا الرحمان اور سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے ہیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ڈھاکہ کے بی اے ایف شاہین کالج سے حاصل کی اور بعد ازاں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں تعلیم حاصل کی۔
سیاسی کیریئر اور تنازعات
طارق رحمان نے فوجی حکمران حسین محمد ارشاد کے خلاف تحریک میں حصہ لیا اور سنہ 1988 میں باقاعدہ طور پر بی این پی میں شامل ہوئے۔ تاہم پارٹی میں ان کا اثر و رسوخ سنہ 2001 کے عام انتخابات کے بعد نمایاں ہوا، جب بی این پی کی قیادت میں چار جماعتی اتحاد نے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔
بی این پی کے دورِ حکومت میں ان اور ان کے قریبی ساتھیوں پر کرپشن کے الزامات لگے۔ سنہ 2004 میں ڈھاکہ میں اُس وقت کی اپوزیشن لیڈر شیخ حسینہ کے جلسے پر ہونے والے دستی بم حملے کے مقدمے میں بعد ازاں انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ ان مقدمات سے بری ہو گئے۔ بی این پی ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ
اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی صف بندی دیکھنے میں آئی۔ طارق رحمان کی واپسی اور بی این پی کی انتخابی برتری نے ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حتمی نتائج اور حکومت سازی کے عمل کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا طارق رحمان واقعی بنگلہ دیش کے اگلے وزیرِاعظم بن پائیں گے یا نہیں، تاہم موجودہ رجحانات نے ملک کی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔