اسلام آباد(ویب ڈیسک) سوشل میڈیا کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے نصب کیا گیا متنازع فائر وال منصوبہ ناکام ہو گیا، جس کے بعد حکومت نے حکومت پاکستان کی جانب سے 5G اسپیکٹرم کی متوقع نیلامی سے قبل فائر وال کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق فائر وال منصوبے کی ناکامی سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ نظام 2024 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی اور مواد کو کنٹرول کرنے کے مقصد سے نصب کیا گیا تھا، تاہم مکمل تکنیکی تیاری کے بغیر تنصیب کے باعث یہ ملک کے ٹیلی کام انفراسٹرکچر سے مطابقت نہ رکھ سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فائر وال کی فعالیت کے دوران انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس سے لاکھوں فری لانسرز اور ہزاروں آئی ٹی و ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ متعدد کاروباری حلقوں نے انٹرنیٹ سروس کی سست روی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
سرکاری حکام کے مطابق مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے اور انٹرنیٹ اسپیڈ متاثر ہونے کے باعث فائر وال کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔
دوسری جانب وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے فائر وال کی بندش سے متعلق باضابطہ موقف دینے سے گریز کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 5G نیٹ ورک کے لیے مستحکم اور تیز رفتار انٹرنیٹ انفراسٹرکچر بنیادی ضرورت ہے، اور کسی بھی قسم کی تکنیکی رکاوٹ نیلامی کے عمل اور سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہے۔