تہران/اسلام آباد(ويب ڈیسک) ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے تمام ممالک کے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قیادت کی کوششوں کا معترف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکر گزار ہے جنہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل اور پیش کردہ 15 نکاتی تجاویز کی بنیاد پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کی درخواست قبول کر لی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی 10 نکاتی تجاویز کے عمومی خدوخال پر اتفاق کیا ہے۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے فیصلے کے مطابق اگر ایران پر حملے بند کر دیے جاتے ہیں تو ایرانی فوج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی مسلح افواج کے ساتھ رابطے کے بعد آبنائے ہرمز سے دو ہفتوں کے لیے محفوظ گزرگاہ فراہم کی جائے گی، تاہم اس دوران تکنیکی حدود اور ضابطوں کی پابندی لازمی ہوگی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی عارضی بحالی سے عالمی توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹیں کم ہونے کا امکان ہے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔