بھارت کا پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی، سندھ طاس معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا؟

نئی دہلی/اسلام آباد(ویب ڈیسک) بھارت کے آبی وسائل کے وزیر سی آر پاٹل نے کہا ہے کہ آنے والے برسوں میں بھارت سے ’’ایک بوند پانی بھی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا‘‘ اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے مستقبل پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے سی آر پاٹل نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایات کے مطابق پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق بھارت اپنے دریائی وسائل کے استعمال کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ سرحد پار پانی کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی کو ’’جنگی اقدام‘‘ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور اس سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے پر پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے استعمال کا اختیار بھارت کو دیا گیا۔ اس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی نافذ رہا۔

پاکستان کی زراعت، آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات کا بڑا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، جس سے کروڑوں افراد کا روزگار اور خوراک کا تحفظ وابستہ ہے۔

معاہدے کی معطلی اور نئی کشیدگی

بھارت نے مئی 2025 میں سندھ طاس معاہدے میں اپنی شمولیت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نئی دہلی نے یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے ایک مہلک حملے کے بعد کیا، جس کا الزام اس نے پاکستان پر عائد کیا تھا۔ تاہم پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے اس واقعے سے جوڑنے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

رواں ماہ پاکستان نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پانی کو ’’بطور ہتھیار‘‘ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب بھارت نے دریائے چناب سے متعلق دو اہم منصوبوں کا اعلان کیا۔

بھارت کے سرکاری ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) نے مئی میں ایک سرنگ منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا، جس کے تحت دریائے چناب کے پانی کو بیاس بیسن کی جانب منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح بھارت کی وزارت توانائی نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ دریائے چناب پر واقع سلال ہائیڈرو پاور اسٹیشن میں جمع شدہ تلچھٹ (سیڈیمنٹ) ہٹانے کا کام شروع کیا جا رہا ہے، جو اس کے بقول ’’سندھ طاس معاہدے کی معطلی‘‘ کے بعد ممکن ہوا ہے۔

پاکستان کے لیے ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق اگر بھارت دریاؤں کے پانی کے بہاؤ، ذخیرہ کرنے یا رخ موڑنے سے متعلق بڑے منصوبوں پر عملدرآمد کرتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے زرعی شعبے، آبی ذخائر اور ماحولیاتی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

خصوصاً دریائے چناب اور جہلم کے پانی میں کمی پنجاب کے نہری نظام جبکہ دریائے سندھ میں مجموعی بہاؤ میں کمی سندھ کے زیریں علاقوں اور انڈس ڈیلٹا پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، جہاں پہلے ہی سمندری پانی کی پیش قدمی، زرعی زمینوں کی تباہی اور میٹھے پانی کی قلت جیسے مسائل موجود ہیں۔

قانونی اور سفارتی پہلو

بین الاقوامی آبی قوانین کے ماہرین کے مطابق سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں عالمی بینک بھی ضامن کے طور پر شامل ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ بدلتے حالات اور سلامتی کے خدشات کے پیش نظر معاہدے پر نظرثانی ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کا تنازع جنوبی ایشیا میں مستقبل کی سفارتی کشیدگی کا ایک اہم محور بن سکتا ہے، کیونکہ پانی نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں