سندھ میں پانی کا شدید بحران: ارسا کے اعداد و شمار مسترد، قومی اسمبلی میں احتجاج

کراچی/ اسلام آباد/ سکھر (انڈس ٹربیون)
سندھ میں پانی کی قلت نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے، جس کے باعث صوبے کے تینوں بیراجوں پر مجموعی طور پر 48 فیصد پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور کٹوتی پر سخت احتجاج کیا گیا ہے۔ دوسری جانب جمعرات کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر کی جانب سے پیش کردہ ارسا کے اعداد و شمار پر پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے انہیں یکسر مسترد کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر
کی جانب سے پانی کی صورتحال پر بریفنگ کے دوران پیش کیے گئے اعداد و شمار پر پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے شدید اعتراض اٹھایا اور انہیں مسترد کر دیا۔

نوید قمر نے سندھ اور بلوچستان میں پانی کی شدید قلت کا معاملہ اٹھایا اور ارسا (IRSA) کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ارسا کے فیصلوں کی وجہ سے سندھ کو 10 فیصد اور پنجاب کو 17 فیصد کٹوتی کا سامنا ہے، جو زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

فصلوں کی تباہی کا خدشہ: وفاقی وزیر شازیہ مری نے ارسا کے ان اعداد و شمار کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں پانی نہ ہونے کے باعث کھڑی فصلیں کاشتکار بو نہیں پا رہے اور زرعی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے۔

اسپیکر کی رولنگ:ارسا کے اعداد و شمار پر ارکان کے عدم اطمینان اور تضاد پر اسپیکر قومی اسمبلی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے رولنگ دی کہ:
“تمام ممبران ایک ساتھ بیٹھیں، اگر ارسا کے یہ اعداد و شمار غلط ثابت ہوئے تو پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح (Privilege Motion) تصور ہوگا اور سخت کارروائی کی جائے گی۔ ارسا حکام کو بلوا کر تمام ممبران کے سامنے تفصیلی بریفنگ دی جائے۔”

ٹیلی میٹرک سسٹم کی تنصیب میں تاخیر
اجلاس کے دوران شازیہ مری نے سوال اٹھایا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کی نگرانی کیلئے “ٹیلی میٹرک سسٹم” اب تک کیوں فعال نہیں ہو سکا؟ جس پر جواب دیا گیا کہ ارسا اور پانی کے مروجہ نظام میں 1991ء کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر ہوئی، تاہم اب اس سسٹم کو 2027 تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔
ادھر جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہیں دیا جا رہا۔ 1991ء کے تاریخی پانی معاہدے (واٹر اکارڈ) کے تحت سندھ کو حق نہیں مل رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ:
“پنجاب صرف 10 فیصد پانی کی کٹوتی برداشت کر رہا ہے جبکہ سندھ کو 41 فیصد کم پانی مل رہا ہے۔ پنجاب کی جانب سے چشمہ جہلم لنک کینال سمیت فلڈ کینالز کے ذریعے پانی کی چوری مسلسل جاری ہے۔ گزشتہ سال اس سیزن میں گڈو بیراج پر 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی تھا، جو اب صرف 75 ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔ اگر کٹوتی کرنی ہی ہے تو برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔”

سندھ کے عوامی اور زرعی حلقوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ارسا کی اس من مانی کا فوری نوٹس لیں اور صوبے کو معاشی و زرعی تباہی سے بچانے کیلئے پانی کی برابری کی بنیاد پر منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں