سکھر (رپورٹ:تاج رند) سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کے تحت دریائے سندھ پر قائم سکھر بیراج کے مزید 28 دروازے تبدیل کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد منصوبے کے دوسرے مرحلے کا سول، مکینیکل اور برقی کام مکمل ہو گیا ہے۔
سکھر بیراج انتظامیہ کے مطابق گزشتہ سال منصوبے کے پہلے مرحلے میں 16 دروازے تبدیل کیے گئے تھے، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 28 دروازوں کی تبدیلی مکمل ہونے کے بعد اب تک مجموعی طور پر 44 دروازے نئے لگائے جا چکے ہیں۔
1932 میں تعمیر ہونے والا سکھر (لائیڈ) بیراج دنیا کے بڑے آبپاشی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ بیراج مجموعی طور پر 66 دروازوں پر مشتمل ہے، جن میں سے 10 دروازے برطانوی دور میں مستقل طور پر بند کر دیے گئے تھے۔
بیراج انتظامیہ کے مطابق باقی ماندہ 12 دروازے، جن میں سات لیفٹ بینک اور پانچ رائٹ بینک کے شامل ہیں، منصوبے کے تیسرے مرحلے میں آئندہ سال تبدیل کیے جائیں گے۔
سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ نئے دروازوں میں روایتی کاؤنٹر ویٹ نظام کی جگہ جدید برقی موٹروں پر مشتمل خودکار نظام نصب کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ہر دروازے کے برج پر پڑنے والے وزن میں 68 ٹن تک کمی آئی ہے۔
حکام کے مطابق پرانے نظام میں ہر دروازے کا وزن 40 ٹن تھا جبکہ اسے اوپر نیچے کرنے کے لیے 80 ٹن وزنی کاؤنٹر ویٹ استعمال کیا جاتا تھا۔ نئے نظام میں کاؤنٹر ویٹ ختم کر کے برقی موٹروں کا استعمال کیا گیا ہے، جس کے بعد ہر دروازے کا وزن 52 ٹن رہ گیا ہے۔
سکھر بیراج کے سابق کنٹرول روم انچارج عبدالعزیز سومرو کے مطابق چیف انجینئر سکھر بیراج لیفٹ غلام مجتبیٰ دھامراہ، سپرنٹنڈنٹ انجینئر افتخار لانگاہ اور انجینئر غضنفر مبین نے چینی انجینئروں اور مشیروں کے ہمراہ منصوبے کا دورہ کیا اور دوسرے مرحلے کے کام کی تکمیل کا جائزہ لیا۔
عبدالعزیز سومرو نے بتایا کہ تمام 28 نئے دروازے فعال ہو چکے ہیں۔ تاہم حتمی آزمائش کے طور پر دروازوں پر پانی کے دباؤ کے بعد ان کے مکمل طور پر آپریشنل ہونے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
ان کے مطابق دروازوں کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد جمعرات سے عارضی بند (کوفر ڈیم) ختم کرنے اور بیراج میں نصب تعمیراتی مشینری ہٹانے کا عمل بھی شروع کر دیا جائے گا۔