نیویارک(ویب ڈیسک) صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی سہراب برکت کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کیا جائے، جنہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری احتجاجی صورتحال سے متعلق رپورٹنگ کے الزام میں دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔
سی پی جے کے مطابق سہراب برکت کو 5 جون کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ گرفتاری کے دوران حکام نے ان کا موبائل فون اور گاڑی کی چابیاں بھی اپنی تحویل میں لے لیں۔ بعد ازاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 6 جون کو ان کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سہراب برکت نے اپنے یوٹیوب چینل پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق ایسی معلومات نشر کیں جو “جھوٹی یا گمراہ کن” تھیں، جس کے باعث ان کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس قانون کے تحت جھوٹی معلومات کی تشہیر پر تین سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سہراب برکت نے 5 جون کو نشر ہونے والی ایک ویڈیو رپورٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مؤقف کو جگہ دی تھی، جس پر حکام نے انہیں اس تنظیم کے نظریات کی تشہیر کا مرتکب قرار دیا۔ جمعہ کے روز انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیشی ادارے کے حوالے کر دیا۔
سی پی جے کے افغانستان اور پاکستان کے نمائندے ولی اللہ رحمانی نے کہا کہ سہراب برکت کی دوبارہ گرفتاری آزاد صحافت کو جرم بنانے کی کوشش ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کشمیر کی صورتحال عوامی دلچسپی کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام فوری طور پر سہراب برکت کو رہا کریں، ان کا ضبط شدہ سامان واپس کریں اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مبہم الزامات اور انسداد دہشت گردی قوانین کا استعمال بند کریں۔
سی پی جے کے مطابق سہراب برکت، جو بنیادی طور پر کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، اس سے قبل بھی نومبر 2025 سے مارچ 2026 تک تقریباً 100 روز تک بغیر کسی فردِ جرم کے حراست میں رہ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے قبل جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اُن 12 نشستوں کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی جو بھارتی زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ اس معاملے پر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن کے بعد سکیورٹی کارروائیوں، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ کی بندش کی اطلاعات سامنے آئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان جھڑپوں اور کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سی پی جے نے کہا کہ سہراب برکت کی گرفتاری سے متعلق موقف جاننے کے لیے این سی سی آئی اے کے اسلام آباد دفتر سے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر فائل کیے جانے تک ادارے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔