جیکب آباد: پسند کی شادی نہ کرنے پر ملزم نے سگے بھائی سے مل کر مایوں میں بیٹھی دلہن کو قتل کر دیا

ٹھل(رپورٹ: شاہ زیب سومرو) ضلع جیکب آباد کے تحصیل ٹھل کے قریب گاؤں گل خان بنگلانی میں جمعرات اور جمعے کے درمیانی شب پسند کی شادی نہ کرنے پر ملزم نے مایوں میں بیٹھی دلہن کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا، جس کے باعث شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئیں۔

پولیس اور ورثا کے مطابق مقتولہ جنت خاتون بنت بنگلانی کا نکاح اگلے روز شکل بنگلانی نامی نوجوان سے ہونا تھا اور شادی کی تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ مقتولہ کے ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی بھی لگی ہوئی تھی کہ اسی دوران ملزم زاہد بنگلانی نے لڑکی کے سگے بھائی ودیگر ملزمان کے ساتھ مبینہ طور پر گھر میں داخل ہوا اور فائرنگ کرکے اسے قتل کر دیا، جس کے بعد وہ فرار ہوگیا۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر تعلقہ اسپتال ٹھل منتقل کیا، جہاں ضروری قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

مقتولہ کی والدہ حسینہ خاتون نے بتایا کہ ان کی بیٹی کا نکاح اگلے روز طے تھا، تاہم ملزم زاہد بنگلانی زبردستی اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ رشتہ نہ ملنے پر اس نے گھر پر حملہ کرکے ان کی بیٹی کو قتل کر دیا۔

ٹھل کے سی سیکشن تھانے پر مقتولہ کے بھائی نظر محمد بنگلانی کی مدعیت میں زاہد بنگلانی، صدیق، نور حسن، علی دوست اور مقتولہ کے سگے بھائی ظفر علی کے خلاف تعذیرات پاکستان کے دفعات 449، 302، 337 ایچ 2، 148 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

مدعی کے مطابق ان کی بہن کا رشتہ شکل بنگلانی کے ساتھ طے تھا، جبکہ ملزم مسلسل اس سے شادی کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ جبکہ ان کے بھائی ظفر علی بھی بہن کی شکل بنگلانی کے ساتھ شادی پر ناراض تھے، 12 جون کو شام کے 7 بجے ملزمان نے گھر میں گھس کر بندوق کے فائر کر کے مایوں میں بیٹھی ہوئی ان کی بہن جنت خاتون کو قتل کر دیا۔ ورثا نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق مقتولہ کا ہونے والا شوہر شکل بنگلانی جسمانی معذوری کا شکار اور ایک پاؤں سے معذور ہے۔

اس حوالے سے ایس ایچ او سی سیکشن علی گل چولیانی نے بتایا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں