برادری تنازع کی آڑ میں فائرنگ، زخمی خواجہ سرا دم توڑ گیا

میاں صاحب (رپورٹ: بشیر رند) ضلع شکارپور میں برادریوں کے درمیان جاری دیرینہ تنازعات کے ایک اور واقعے میں فائرنگ سے زخمی ہونے والا خواجہ سرا جاں بحق ہو گیا، جس پر خواجہ سرا برادری اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

ورثاء کے مطابق عجیباں عرف کشمیر کیھر کو ایک ہفتہ قبل شکارپور میں قاتلانہ حملے کے دوران زخمی کیا گیا تھا، جو جمعرات کی صبح سکھر کے ایک نجی اسپتال میں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

پولیس کے مطابق 11 جون کو خواجہ سرا عجیباں عرف کشمیر کیھر اپنے بھائی محمد خالد اور رشتہ دار گلشیر کیھر کے ہمراہ عدالت میں پیشی کے لیے جا رہا تھا کہ شکارپور کے پی ٹی سی ایل دفتر کے قریب مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں عجیباں عرف کشمیر اور گلشیر کیھر شدید زخمی ہوئے۔

مقتول کے بھائی حیات کیھر کے مطابق کشمیر کو فوری طور پر سکھر کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک ہفتے تک زیر علاج رہنے کے بعد جمعرات کی صبح وہ جانبر نہ ہو سکا۔

جاں بحق خواجہ سرا ضلع شکارپور کی یونین کونسل سلطان کوٹ کے گاؤں گلاب کیھر کا رہائشی تھا۔

واقعے کا مقدمہ شکارپور کے تھانہ نیو فوجداری میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ زخمی گلشیر کے والد علی گوہر کی مدعیت میں 9 افراد کے خلاف درج کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حملہ دیرینہ برادری دشمنی کی بنیاد پر کیا گیا۔

پولیس کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے، تاہم ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز کے مختلف اضلاع میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری برادری تنازعات کے دوران مسلح تصادم اور خونریزی کے واقعات میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ان واقعات میں خواتین، بچے اور عام شہری بھی متاثر ہوتے رہے ہیں۔

سماجی کارکنوں اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ برادری دشمنی کے نام پر جاری مسلح کارروائیاں اب سنگین امن و امان کے مسئلے کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جبکہ ریاستی اداروں کو ایسے تنازعات، غیر قانونی اسلحے اور تشدد کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

مبصرین کے مطابق برادری تنازع کے تناظر میں خواجہ سرا کو نشانہ بنائے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے، جس نے سندھ کے مختلف حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں