سکھر بیراج کی بحالی سندھ کے آبی تحفظ کے لیے سنگِ میل ہے، مراد علی شاہ

سکھر(رپورٹ: تاج رند) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر بیراج کی بحالی اور جدید کاری کو سندھ کے آبی تحفظ اور زرعی مستقبل کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 23.436 ارب روپے کی لاگت سے جاری منصوبے نے جنوبی ایشیا کے اہم ترین آبپاشی نظاموں میں سے ایک کو مزید محفوظ اور مؤثر بنا دیا ہے۔

سکھر بیراج ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ماڈرنائزیشن پراجیکٹ کے تحت 2025-26 کے ورکنگ سیزن کی کامیاب تکمیل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ بیراج سیلابی خطرات سے نمٹنے، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے اور لاکھوں آبادگار خاندانوں کے روزگار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے بیراج کے مختلف بحال شدہ حصوں کا معائنہ کیا اور منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ، صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ، میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ، ڈپٹی میئر ڈاکٹر ارشد مغل، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام 44 بیراج گیٹس اور ان کے ہوسٹنگ سسٹمز جدید ڈیزائن کے مطابق تبدیل کر دیے گئے ہیں

مراد علی شاہ نے بتایا کہ جون 2024 میں گیٹ نمبر 44 اور 47 میں خرابی کے بعد سندھ حکومت نے بحالی کے دو سیزن کا کام ایک ہی سیزن میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے لیے عارضی کوفر ڈیم تعمیر کیا گیا۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی سے مزید گیٹس کی خرابی کے خطرات کم ہوئے اور منصوبے کی رفتار تیز ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت 32 گیٹس کی تبدیلی کا ہدف مقرر تھا تاہم اب تک 44 گیٹس تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام 44 بیراج گیٹس اور ان کے ہوسٹنگ سسٹمز جدید ڈیزائن کے مطابق تبدیل کر دیے گئے ہیں جبکہ 44 بیراج خلیوں میں سول مرمت کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تقریباً ایک صدی بعد پہلی بار سکھر بیراج کے فرش اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی جامع بحالی کی گئی ہے، جس سے لاکھوں افراد کے لیے آبپاشی کے پانی کی فراہمی مزید محفوظ اور پائیدار ہو جائے گی۔ ان کے مطابق سندھ کی تقریباً 60 فیصد آبادی براہ راست یا بالواسطہ طور پر بیراجی نظام سے وابستہ ہے جبکہ 6 لاکھ سے زائد آبادگار خاندانوں کا روزگار سکھر بیراج سے منسلک ہے۔

انہوں نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ منصوبے کے باقی مراحل میں معیار، شفافیت اور حفاظت کے اعلیٰ ترین اصول برقرار رکھے جائیں اور جون 2027 تک منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کے بیراجوں کی بحالی کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ صوبے کا زرعی شعبہ مزید مستحکم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر بیراج کی بحالی سے اس کی عملی عمر میں مزید 30 سال کا اضافہ متوقع ہے۔

پانی کی دستیابی سے متعلق سوالات کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں وزیراعظم کو سندھ کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے خط ارسال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال دریاؤں میں پانی کی آمد گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر رہی ہے، تاہم سندھ کو اب بھی ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) سے روزانہ کی بنیاد پر پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور صوبے کے جائز حصے کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

وزیراعلیٰ نے سکھر-حیدرآباد موٹروے منصوبے کو بھی قومی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں