وزیر اعلیٰ سندھ کی انگریزی میں بجٹ تقریر پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید، “لگتا ہے بجٹ اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں ہو رہا تھا”

کراچی(انڈس ٹربیون) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ انگریزی زبان میں پیش کیے جانے پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں صحافیوں، ادیبوں اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

بدھ کے روز وزیر اعلیٰ سندھ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا، تاہم بجٹ تقریر سندھی کے بجائے انگریزی زبان میں کیے جانے پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ صوبے کی اکثریتی زبان کو نظر انداز کیوں کیا گیا۔

براڈکاسٹر نصیر گوپانگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “سندھ کے وزیر اعلیٰ صوبے کے لوگوں کی تعلیمی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیشہ بجٹ انگریزی میں پیش کرتے ہیں۔”

شاعر اور ادیب اسحاق سمیجو نے لکھا کہ “جس سندھ اسمبلی نے سندھی زبان کو سرکاری اور دفتری زبان قرار دینے کا بل منظور کیا تھا، اگر وہی اسمبلی اپنا سالانہ بجٹ سندھی زبان میں پیش کرے تو شاید سندھ کے لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے عزت پیدا ہو جائے۔ ویسے بھی بجٹ میں تو عزت حاصل کرنے کے لیے کچھ شامل نہیں کیا جاتا۔”

صحافی عبدالغنی بجیر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “میں سندھ بجٹ پر اس لیے تبصرہ نہیں کر رہا کیونکہ وزیر اعلیٰ کی تقریر تیز رفتار انگریزی میں تھی۔ جو بھی کیا ہوگا، اچھا ہی کیا ہوگا۔ مثبت سوچ کے ساتھ زندگی گزاریں۔”

صحافی اور کالم نگار ممتاز بخاری نے سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ “سندھ حکومت! جب سندھی سرکاری زبان ہے تو بجٹ تقریر سندھی میں کیوں نہیں؟ آمروں کے دور میں بھی بجٹ تقاریر سندھی زبان میں ہوتی تھیں، جبکہ ساتھ اردو اور انگریزی کا استعمال بھی کیا جاتا تھا۔”

فیس بک صارف مونس ابراہیم چنہ نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ “لگتا ہے جیسے بجٹ اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں ہو رہا ہے، جو انگریزی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔”

وزیر اعلیٰ سندھ کی انگریزی میں بجٹ تقریر پر تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ چونکہ سندھ اسمبلی پورے صوبے کی نمائندہ قانون ساز اسمبلی ہے، اس لیے بجٹ سمیت اسمبلی کی تمام کارروائی اور تقاریر صوبے کی اکثریتی زبان، یعنی سندھی میں ہونی چاہییں، جبکہ ضرورت کے تحت اردو اور انگریزی تراجم بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم سندھ حکومت کی جانب سے اس تنقید پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں