کراچی(انڈس ٹربیون) سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی فرحان انصاری کے مبینہ دھمکی آمیز ریمارکس پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور معاملہ ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔
اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن فرحان انصاری نے کہا کہ “آپ لوگ صرف بوری بند لاشوں کا ذکر کرتے ہیں، کیا کبھی بوری دیکھی ہے؟ کیا آپ بوری دیکھ بھی سکیں گے؟ آپ بوری برداشت بھی نہیں کر سکیں گے۔”
فرحان انصاری کے ان ریمارکس پر حکومتی ارکان نے شدید احتجاج کیا اور انہیں ایوان کے ارکان کو دھمکیاں دینے کے مترادف قرار دیا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ایک رکن اسمبلی نے بالواسطہ طور پر پورے ایوان کو بوری بند لاشوں کی دھمکی دی ہے، جو نہایت سنگین اور خطرناک بات ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی اور متعلقہ کمیٹی اس کی مکمل جانچ کرے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا، “میں اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے رہا ہوں، آپ ہی اس کمیٹی کی سربراہی کریں اور حقائق سامنے لائیں۔”
اس موقع پر اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ نے بھی فرحان انصاری کے الفاظ کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ “میں تحقیقات کی اجازت دیتا ہوں، یہ الفاظ انتہائی غلط ہیں اور ایسے ریمارکس ایوان کے تقدس کے منافی ہیں۔”
دھمکی آمیز ریمارکس پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے آ گئے۔ دونوں جانب سے شدید نعرے بازی اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ بعض ارکان ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے ہاتھا پائی پر اتر آئے، جس کے باعث ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔