اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو جواز بناتے ہوئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔
جمعرات کی شب وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے اضافے کا اعلان کیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔
اضافے کے بعد ملک میں پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس وسائل محدود ہیں اور فوری طور پر جنگ کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو خلیجی ممالک سے تیل کی زیادہ تر ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، جبکہ کئی ممالک میں توانائی ایمرجنسی بھی نافذ کی جا چکی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت رعایت دینے کی ایک حد تک ہی جا سکتی ہے اور تمام فیصلے ملکی قیادت کی مشاورت سے کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے محدود سبسڈی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت آئندہ تین ماہ تک موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، جبکہ انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے رعایت دی جائے گی۔
مزید برآں مسافر بسوں کو ماہانہ ایک لاکھ روپے تک، جبکہ ٹرک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ ریلوے کے کرایوں کو مستحکم رکھنے کے لیے بھی حکومتی سبسڈی دی جائے گی۔
وزیر خزانہ کے مطابق ان اقدامات کا ہر ہفتے جائزہ لیا جائے گا اور حالات کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف دینے کے لیے بھاری مالی بوجھ برداشت کیا گیا۔ حکام کے مطابق پہلے ہفتے تقریباً 69 ارب روپے اور دوسرے ہفتے 56 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے سبسڈی برقرار رکھنا مشکل ہے، جس کے باعث حکومت کو قیمتوں میں اضافے جیسے سخت فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔