اسلام آباد / واشنگٹن / تہران (انٹرنیشنل ڈیسک)پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر باضابطہ الیکٹرانک دستخط کر دیے گئے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی منظوری کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی، اقتصادی تعاون اور مستقبل کے مذاکرات کے حوالے سے متعدد نکات شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایران نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ ملک کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر تک کے مالی تعاون کا فریم ورک بھی تجویز کیا گیا ہے۔
معاہدے میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جاری فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے زیادہ سے زیادہ 60 روز کے اندر جامع مذاکرات مکمل کرکے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس مدت میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کے بعد خبردار کیا کہ اگر ایران نے طے شدہ شرائط اور ذمہ داریوں پر عمل نہ کیا تو کشیدگی دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
ایک تفصیلی انٹرویو میں قالیباف نے کہا کہ ایران نے مذاکرات کے ذریعے وہ نتائج حاصل کیے ہیں جو فوجی کارروائی سے ممکن نہیں تھے۔ ان کے بقول، ’’جو کچھ ہم جنگ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس سے کہیں زیادہ کامیابی ہمیں مذاکرات سے ملی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کسی بھی عسکری کامیابی کو دیرپا اور مؤثر بنانے کے لیے اسے سیاسی اور قانونی معاہدوں کی شکل دینا ضروری ہوتا ہے۔
قالیباف نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کا انتظام اور کنٹرول ساحلی ممالک کا حق ہے اور ایران اپنی خودمختاری کے دائرے میں فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں فرانسیسی صدر بھی موجود ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو دستاویزات پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
بعد ازاں ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تصویر جاری کی، جس میں وہ معاہدے پر دستخط کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تصویر میں دستاویز پر دونوں صدور کے دستخط نمایاں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معاہدے پر مؤثر عملدرآمد ممکن ہوا تو یہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ تعلقات میں نئی پیش رفت کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔