سکھر(انڈس ٹربیون) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سکھر نے پولیس مقابلے میں مارے گئے جہانگیر جکھرانی کے قتل کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ایس ایچ او شکور لاکو سمیت 9 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اللہ بچایو گبول نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے 16 اکتوبر 2025 کو پنوعاقل میں ہونے والے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دے دیا۔ مقتول کے وکیل مرتضیٰ کورائی کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ دستیاب شواہد اور تحقیقات کی روشنی میں مذکورہ پولیس مقابلہ فرضی تھا۔
عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے جہانگیر جکھرانی کو ہلاک کرنے والے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا اور نئے قانون کے تحت ایف آئی اے کو ایس ایچ او شکور لاکو سمیت 9 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
وکیل مرتضیٰ کورائی کا کہنا تھا کہ عدالت کا یہ فیصلہ انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کے حوالے سے قانونی کارروائی کے عمل کو تقویت ملے گی۔
واضح رہے کہ جہانگیر جکھرانی 16 اکتوبر 2025 کو پنوعاقل میں ہونے والے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے، تاہم ورثا کی جانب سے اس واقعے کو جعلی مقابلہ قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔